کاروار 16؍دسمبر(ایس او نیوز)پریش میستا کی غیر فطری موت کے بعد پیدا ہونے والا کشیدہ ماحول بڑی حد تک امن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ بی جے پی کی طرف سے اب پھر " جیل بھرو " کا ڈرامہ کرنے کی آخر کیا ضرورت ہے؟
حالانکہ پریش کی غیر فطری موت پر ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے بی جے پی نے ہی اس معاملے کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھااور اسی کے اصرار پر ریاستی حکومت نے تحقیقات مرکزی تفتیشی ایجنسی کو سونپی تھی۔لیکن ایسا لگتا ہے کہ خود بی جے پی والے ہی سی بی آئی پر اعتماد نہ ہونے کا کھلم کھلا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے نے 19دسمبر سے جیل بھرو تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔اس پر عوام کے ذہن میں یہی سوال ابھر رہا ہے کہ امن و امان والے ضلع شمالی کینرا میں بار بار بدامنی پھیلانے کے لئے اس طرح کے مظاہروں کی آخر ضرورت کیا ہے۔اگر ریاستی حکومت کی طرف سے تحقیقات میں کوتاہی ہوئی ہوتی تب تو مظاہرے کرنا سمجھ میں آسکتاتھا۔لہٰذاسی بی آئی کو تحقیقات سونپنے کے بعد پھر سے احتجاجی مظاہرے کرنا ، عوامی مفاد کے بجائے اپنی سیاسی دکان چمکانے اور انتخابی ہتھکنڈے کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔
جیل بھرو یا اس قسم کے مظاہروں کا اعلان تو پارٹیوں کے لیڈران کرتے ہیں ،مگر مظاہروں میں شریک ہوکر مصیبت میں پڑنے والے عام کارکنان ہوا کرتے ہیں اور یہ بات بی جے پی کے لئے بھی صادق آتی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ پریش میستا کی غیر فطری موت سے بی جے پی کے لیڈروں کو عوام کے جذبات سے کھیلنے اور اس کا استحصال کرنے کا ایسا موقع ہاتھ آیا ہے ، جو انہوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔جس پارٹی کے پاس اپنے ترقیاتی منصوبوں اور کامیابیوں کا خلاصہ کرنے لائق کوئی موضوع نہیں ہے ، اب وہ فرقہ واریت اور حساس جذباتی مسائل پر احتجاجی مظاہروں سے عوام کا دل جیتنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔
آسام اور اتر پردیش وغیرہ میں فرقہ وارانہ ٹرمپ کارڈ (ترپ کا پتّا)کھیل کر جیت کا مزہ چکھنے والی بی جے پی کو اب ہر جگہ سیاسی اقتدار کے لئے فرقہ وارانہ سیڑھی ہی نظر آرہی ہے۔اور وہ شمالی ہندوستان کی طرح ضلع شمالی کینرا میں بھی یہی طریقہ اپنانا چاہتی ہے۔